بھاجی[2]

قسم کلام: اسم نکرہ

معنی

١ - کھانا جو کسی تقریب یا خوشی میں پکا کر برادری میں تقسیم کیا جاتا ہے۔ "جب دینے میں کسی ذاتی غرض کا شائبہ ہو تو ایسے دینے کا ثواب نہیں جیسے بھاجی اور نیوتہ۔"      ( ١٩٠٦ء، الحقوق والفرائض، ٤١٩:٢ ) ٢ - حصّہ، بخرا، تحفہ، تقسیم شدہ چیز، حصہ جو کسی تقریب میں عزیزوں میں تقسیم کیا جائے۔ "تمام شہر سے رواج دادستہ بھاجی وغیرہ کا ہے اس کو موقوف کرو۔"      ( ١٨٤٦ء، جواہر المواعظ، ٢٠ )

اشتقاق

سنسکرت زبان سے ماخوذ اسم ہے۔ اردو میں عربی رسم الخط کے ساتھ بطور اسم استعمال ہوتا ہے۔ سب سے پہلے ١٧٥١ء کو "نوادر الالفاظ" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - کھانا جو کسی تقریب یا خوشی میں پکا کر برادری میں تقسیم کیا جاتا ہے۔ "جب دینے میں کسی ذاتی غرض کا شائبہ ہو تو ایسے دینے کا ثواب نہیں جیسے بھاجی اور نیوتہ۔"      ( ١٩٠٦ء، الحقوق والفرائض، ٤١٩:٢ ) ٢ - حصّہ، بخرا، تحفہ، تقسیم شدہ چیز، حصہ جو کسی تقریب میں عزیزوں میں تقسیم کیا جائے۔ "تمام شہر سے رواج دادستہ بھاجی وغیرہ کا ہے اس کو موقوف کرو۔"      ( ١٨٤٦ء، جواہر المواعظ، ٢٠ )

اصل لفظ: بھاجت
جنس: مؤنث